کراچی میں طوفانی بارش، 10 افراد جاں بحق، سڑکیں زیرآب مواصلاتی نظام درہم برہم
کراچی.......... کراچی میں منگل کو طوفانی بارش کے نتیجے میں10 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ شہر کی مختلف سڑکیں زیر آب آگئیں، مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا۔ ضعلی حکومت اور ٹاؤنز کا عملہ پانی کی نکاسی میں ناکام ہوگیا جبکہ ٹرینوں کی آمد و روانگی میں 2 تا 10 گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔ سب سے زیادہ 69 ملی میٹر بارش مسرور بیس پر ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین نے جمعہ تک موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ بارش کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی بند رہی تاہم کے ای ایس سی انتظامیہ نے اس بات کی تردید کی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تمام ضلعی ایڈمنسٹریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ الرٹ رہیں اور ریسکیو عملہ فعال رکھیں۔ تفصیلات کے مطابق منگل کو گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔ شہر میں جمعہ تک گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 5 روزہ پیش گوئی کے لحاظ سے کراچی میں جمعہ 30 جولائی تک موسلادھار بارشیں ہونگی ، تاہم ہفتہ 31 جولائی کو سورج نکل آئیگا اور مطلع صاف رہے گا۔ محکمہ موسمیات نے بدھ کو بھی گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بھارت سے آیا ہوا کم دباؤ کا نظام بدستور کراچی میں ہے جس کی وجہ سے موسلا دھار بارشیں ہوتی رہیں گی۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ہونے والی موسلا دھار بارش کے دوران کرنٹ لگنے اور دیگر واقعات میں 8 افراد جاں بحق ہوگئے ماری پور میں ایک نوجوان ندی میں ڈوب گیا۔کورنگی کراسنگ بھٹائی کالونی میں تیز رفتار واٹر ٹینکر کی ٹکر سے 8 سالہ ناصر ولد اکرم جاں بحق ہوگیا۔ شیر شاہ تھانے کی حدود محمدی محلہ گلی نمبر22 میں بارش کے دوران بجلی کے پول کو ہاتھ لگانے سے کرنٹ لگنے سے 30سالہ طالب حسین ولد نور حسین جاں بحق ہوگیا۔ موچکو تھانے کی حدود قائم خانی کالونی گلی نمبر20میں کرنٹ لگنے سے 20سالہ محمد ظہیر جاں بحق ہوگیا۔ بلدیہ ٹاوٴن کے علاقے اتحاد ٹاوٴن کچی آبادی میں کچے مکان کی دیوار گرنے سے ملبے تلے دب کر 14سالہ رحمان ولد صادق علی جاں بحق ہوگیا، میمن گوٹھ میں کچی آبادی میں گھر کے باہر گرنے والے بجلی کے تار سے کرنٹ لگنے سے 30سالہ عبدالله جاں بحق ہوگیا، بلدیہ ٹاوٴن میں کرنٹ لگنے سے جمیل الرحمان جاں بحق ہوگیا۔ جیکسن تھانے کی حدود مائی کلاچی کے قریب نالے سے 35سالہ شخص کی لاش برآمد ہوئی جسے سول اسپتال لایا گیا پولیس کے مطابق متوفی نالے میں ڈوب کر جاں بحق ہوا ہے، تاہم اس کے پاس سے ایسی کوئی چیز نہیں ملی جس سے اس کی شناخت میں کوئی مدد مل سکے۔ پولیس نے لاش ایدھی ہوم سرد خانے بھیج دی۔ ماری پور تھانے کی حدود مشرف کالونی کے قریب ندی میں 18سالہ ثمر گل ڈوب گیا۔ ریلوے کوارٹرز کینٹ اسٹیشن کے بلاک291کے کوارٹرز نمبر16کی چھت بارش کے دوران گر گئی جس کے نتیجے میں گھر کے اندر موجود 5افراد زخمی ہوگئے جنھیں سول اسپتال لایا گیا۔ چاکیواڑہ تھانے کی حدود لاہوتی روڈ پر بجلی کے ٹوٹے ہوئے تار سے کرنٹ لگنے سے 13سالہ غلام محمد ولد عبدالصمد جاں بحق ہوگیا۔ گلستان جوہر بلاک 12 میں بجلی کے پول سے کرنٹ لگنے سے گھر کے قریب مسجد سے عبادت کرکے گھر واپس جانے والے 10/ سالہ ابوبکر اور 12 سالہ شعیب جاں بحق ہوگئے۔ کراچی میں مسلسل دوسرے روز جاری رہنے والی بارش سے سڑکیں زیرآب آگئیں، بڑی شاہراہوں اور چورنگیوں سے سٹی گورنمنٹ اور ٹاؤنز کا عملہ پانی کی نکاسی میں ناکام رہا۔ سٹی گورنمنٹ کی مشینری پمپ اور عملہ بعض مقامات پر مصرورف رہا لیکن ٹاؤنز کی کارکردگی ناقص رہی۔ بارش میں جو سڑکیں اور مقامات سب سے زیادہ متاثر رہے اور دن بھر یہاں ایک سے دو فٹ پانی کھڑا رہا ان میں ناگن چورنگی کی صورتحال سب سے زیادہ خراب رہی۔ کے ڈی اے چورنگی اور فائیو اسٹار چورنگی کے درمیان اور کے ڈی اے چورنگی سے ضیاء الدین اسپتال جانے والی سڑکیں مکمل طورپر پانی میں ڈوبی رہیں نارتھ ناظم آباد ٹاؤن اور نیو کراچی ٹاؤن کا عملہ دکھائی نہ دیا، سٹی گورنمنٹ کی گاڑیاں اور پمپس بھی نکاسی میں ناکام رہے۔ یونیورسٹی روڈ پر نیپا چورنگی سے اردو یونیورسٹی، پرانی سبزی منڈی، جیل چورنگی، ایم اے جناح روڈ پر گرومندر چورنگی، اولڈ کے ایم سی بلڈنگ میری ویدر ٹاور اور اطراف کی گلیاں، شارع فیصل پر فلک ناز سے ناتھ خان پل تک دونوں ٹریک، ایف ٹی سی پل کے نیچے، شاہراہ پاکستان پر واٹر پمپ، عائشہ منزل، کریم آباد لیاقت آباد فلائی اوور کے نیچے، سرشاہ سلیمان روڈ پر نیشنل اسٹیڈیم فلائی اوور کے دونوں اطراف چڑھائی اور اترنے والے ٹریک، پل کے نیچے، صدر میں ایمپریس مارکیٹ کے اطراف، صدر کی تمام شاہراہیں، آرٹس کونسل چورنگی، آغا خان سوئم روڈ ، ملیر کالا بورڈ، ملیر سٹی، ماڈل کالونی لیاقت علی روڈ، جناح اسپتال کے مین گیٹ کے سامنے، حسن علی آفندی روڈ، پرانا حاجی کیمپ سمیت متعدد سڑکیں اور علاقے منگل کو دن بھر تالاب کا منظر پیش کرتے رہے۔ سڑکوں پر پانی بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر اور ٹریفک جام ہوتا رہا شہر کی نشیبی بعض کچی آبادیوں کی گلیوں میں بھی کئی فٹ پانی جمع تھا اس پانی کی نکاسی کی بنیادی ذمہ داری ٹاؤنز کی ہے لیکن ٹاؤنز کا عملہ ساران دن بہت کم نظر آیا۔ محکمہ موسمیات کی مختلف رصد گاہوں میں جو بارش ریکارڈز کی گئی اس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں نارتھ کراچی میں 57.6 ملی میٹر بارش ہوئی، گلشن 38، صدر 36، ایئر پورٹ 37.5، فیصل بیس 48 اور مسرور بیس پر 69 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے صوبے کے تمام ضلعی ایڈمنسٹریٹر کو ہدایت کی ہے کہ وہ کراچی سمیت پورے سندھ میں بارشوں کے دوران الرٹ رہیں ، کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ریسکیو عملے کو مستعد اور فعال رکھیں تا کہ عوام کی جان و مال کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچنے سے محفوظ رکھا جاسکے۔ انہوں نے متعلقہ سول اور ڈسٹرکٹ اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اور سیکرٹری صحت سندھ کو ہدایت کی ہے کہ وہ زخمی ہونیوالوں کو علاج معالجے کی مکمل سہولیات فراہم کریں۔ بارش اور مختلف فالٹس کے باعث منگل کو کراچی کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی بند رہی ، گڈاپ کے متعدد دیہات میں صبح بند ہونے والی بجلی شام تک بحال نہ ہو سکی ۔ شہر کے بعض علاقوں میں تین اور چار گھنٹے بعد بھی فالٹ درست نہ ہو سکے گلشن اقبال بلاک 13 اے ارم پیلس سے مکینوں نے بتایا کہ ان کی شام 5بجے سے رات گئے تک بجلی بند رہی گڈاپ کے گوٹھوں اولڈ تھانہ، بیرو گوٹھ، جام گوٹھ ، میمن گوٹھ، حاجی مراد گوٹھ، سموں گوٹھ، حاجی میاں داد گوٹھ، کاٹھور، در محمد گوٹھ، درسنو چھنہ، سومار کنڈانی اور دیگر دیہات میں صبح 10 بجے سے رات 8 بجے تک بجلی کی فراہمی معطل رہی۔ شہر کے دیگر علاقوں سے بھی فالٹ کے باعث طویل دورانیے تک بجلی بند ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ دریں اثناء کے ای ایس سی کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ بارش کے بعد 98 فیصد علاقے کی بجلی بحال تھی کوئی بریک ڈاؤن نہیں ہوا۔ بارش اور ناقص سگنل نظام کے باعث اندرون ملک سے آنے والی ٹرینیں دو تا دس گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئیں جبکہ ان کی روانگی میں تین تا چھ گھنٹے کی لیٹ جاری رہی سب سے زیادہ خوشحال خاں خٹک مقررہ وقت سے 10گھنٹے بعد پہنچی، منگل کو رات 8بجے تک صرف پاکستان اور تیز گام اپنے مقررہ وقت سے تین گھنٹے تاخیر سے روانہ ہوئیں، متعدد ٹرینیں رات گئے تک روانہ ہوئیں۔
#…کوئٹہ، لاہور، پشاور، راولپنڈی (نمائندگان جنگ/ ایجنسیاں) ملک کے مختلف شہروں میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جو آئندہ کئی روز تک جاری رہے گا۔ سندھ کے اکثر شہری و دیہی علاقوں میں مون سون بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔ بارشوں کے سبب نشیبی علاقے زیر آب آ گئے دادو اور جام شورو میں بارش سے موسم خوشگوار اور بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا، بلوچستان کے شہروں حب اورگڈانی میں ہونیوالی موسلا دھار بارش سے تمام نشیبی علاقے زیر آب اور برساتی ندی نالوں میں طغیانی آ گئی جس سے کوئٹہ اور کراچی کے درمیان ٹریفک کی آمدو رفت بھی متاثر ہوئی ۔ادھر حیدرآباد میں بارش کے باعث گلیوں میں پانی جمع ہوگیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب کے متعدد علاقوں اور کشمیر میں مون سون ہواؤں کی آمد سے حبس کی شدت برقرار ہے جبکہ بلوچستان پر ہوا کے کم دباؤ کا سسٹم ٹھہر جانے سے بدین 44 اعشاریہ 5 سینٹی کے ساتھ ملک کا گرم ترین مقام ریکارڈ کیا گیا۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا جبکہ راولپنڈی میں جامع مسجد روڈ پر کرنٹ لگنے سے 2 بچے جاں بحق ہوگئے۔