دہشت گردی کے ملزم کو 90 روز حراست میں رکھنے کا اختیار، فون ٹیپ ہوسکیں گے، انسداد دہشت گردی ترمیمی بل

 

 
 

نیوز نمبر :  7557              Visited: 10                 

 

 

دہشت گردی کے ملزم کو 90 روز حراست میں رکھنے کا اختیار، فون ٹیپ ہوسکیں گے، انسداد دہشت گردی ترمیمی بل


         


اسلام آباد ..................... منگل کو سینیٹ میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کا ترمیمی بل پیش کر دیا گیا ایکٹ کے تحت کم از کم سزا 10 سال ہو گی، دہشت گردی کے الزام میں گرفتار شخص کو 90 روز حراست میں رکھا جا سکے گا جسے عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکے گا اور ملزم کا ٹرائل بند کمرے میں ہو گا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کیخلاف مزاحمت،اسلحہ کے زور پر سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا اور غیرقانونی ایف ایم ریڈیو چلانا بھی دہشت گردی میں شمار ہو گی،دہشت گردی ایکٹ کے تحت گرفتار مجرم کی کم از کم سزا 10 برس قید کی سفارش کی گئی ہے، وزیر داخلہ رحمن ملک کا کہنا ہے کہ دہشت گرد سزاؤں سے بچ جاتے ہیں سخت قوانین ضروری ہیں، جبکہ ارکان سینیٹ کا کہنا تھا کہ بل جلد بازی میں پیش نہ کیا جائے، جس پر انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء میں ترمیم کا ترمیمی بل 2010 ء مزید غورغوض کیلئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بھجوا دیا۔ قائم مقام چیئرمین جان جمالی نے ہدایت کی کہ کمیٹی پیر کی شام تک اس بل پر اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرے تاکہ ایوان میں اس پر بحث کے بعد اسی سیشن سے اس قانون کو پاس کیا جا سکے۔ منگل کے روز وزیر داخلہ رحمن ملک نے چیئرمین سے مطالبہ کیا کہ یہ ایک اہم بل ہے اور اس کا تعلق ملک میں امن و امان کی صورتِ حال سے ہے۔ براہ کرم رولز معطل کر کے بل ایوان میں پیش کرنیکی اجازت دی جائے جس پر مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ یہ بل جلدبازی میں پیش کرنے کی بجائے اسے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ یہ ایک بہت اہم مسئلہ ہے اس پر مزید غوروخوض ضروری ہے تاکہ اس کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔ سینیٹر پروفیسر ابراہیم، صفدر عباسی، شاہد بگٹی، حاجی عدیل، جمال لغاری، سینیٹر طاہر مشہدی اور مولانا شیرانی نے اس بل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت اہم مسئلہ ہے، 25 سیکشن تبدیل ہو رہے ہیں اسے جلد بازی میں پیش نہ کیا جائے، مشرف دور میں اس بل کا غلط استعمال کیا گیا۔ وزیر داخلہ رحمن ملک نے اس موقع پر کہا کہ وہ خود اس کمیٹی کے اجلاسوں میں شریک ہوں گے اور اراکین کے تحفظات دور کریں گے۔وزیر اعظم کے مشیر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ وزارتوں کی باہمی چپقلش میں انسداد دہشت گردی آرڈی ننس غیر موثر ہو چکا ہے جب تفتیش کا طریقہ کار ہی درست نہیں تو عدلیہ کیا کرے۔ انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2010ء میں دہشتگردوں کیلئے سزاؤں کو سخت کرنے کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں ، پولیس اور تفتیشی اداروں کو بھی وسیع اختیارات دینے کی تجویز دی گئی ہے جس میں کالعدم تنظیموں کیخلاف بھی موجودہ قوانین کو انتہائی سخت کردیا جائے گا جس کے تحت وہ نہ تو پاسپورٹ حاصل کرسکیں گے اور نہ ہی بیرونی ملک سفر کی انہیں اجازت ہوگی انہیں کوئی بینک یا مالیاتی ادارہ مالی مدد ، قرضہ یا کریڈٹ کارڈ جاری نہیں کریگا ان کے اسلحہ لائسنس منسوخ تصور ہونگے جبکہ دہشتگردی میں ملوث عناصر کی سزا سات سال سے بڑھا کر دس سال کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور مجرم کی جائیداد ضبط بھی کی جاسکے گی اس کے علاوہ کئی شقوں میں ترامیم کردی گئی ہیں جس کے مطابق وفاقی حکومت کسی بھی مشتبہ شخص یا افراد کی ٹیلی فون کالز یا پیغامات کی ٹریسنگ اور ٹیپنگ کرسکے گی کسی بھی شخص کو پولیس تفتیش کے دوران معلومات کیلئے طلب کرسکے گی کوئی بھی ٹیلی فون کمپنی مشتبہ شخص یا کسی بھی فرد کا موبائل فون ڈیٹا ، ای میل ، ایم ایم ایس اور کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ یا ایسی دوسری اطلاع حاصل کرنے کی بھی مجاز ہوگی جس میں اس ایکٹ کے تحت کسی شخص کے ملوث ہونے کا شبہ ہو ۔ وزیر داخلہ کی طرف سے پیش کئے گئے ترمیمی بل کی تقریباً تمام شقوں میں مزید ترامیم کی سفارش کی گئی ہے جبکہ کئی نئی ترامیم بھی لائی جارہی ہیں ایکٹ کی شق نمبر 2کی دفعہ 6میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے جس کے تحت دہشتگردی ایکٹ میں عوام معاشرتی شعبوں کاروباری جماعت کو خوفزدہ اور دہشت زدہ کرنے ، شہریوں ، سرکاری اداروں، تنصیبات، سکیورٹی فورسز یا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کرے یا کرنے کی تیاری کرے کا اضافہ کیا جائے گا ذیلی دفعہ 2 میں شق دوئم کے مطابق وہ شخص بھی دہشتگردی کے زمرے میں آئیگا جو کسی قانونی جواز کے بغیر کسی بھی قسم کا دھماکا خیز مواد رکھتا ہو یا مذکورہ آتش گیر مواد سے غیر قانونی تعلق رکھتا ہو، شق سوئم کو شق ز سے تبدیل کردیاجائے گا جس کے تحت اگر کوئی شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کسی تنظیم ، کسی فرد یا گروہ خواہ کوئی بھی ہو کوئی سزا صادر کرے جو قانون کی طرف سے تسلیم شدہ نہ ہو اور ملکی قانون کے دائرہ کار سے باہر ہو عوام الناس افراد گروہوں ، فرقوں ، سرکاری اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والی تنظیموں کیخلاف طاقت کا ناجائز استعمال کرے یا ان کو دھمکائے یا دہشت زدہ کرے اس کیخلاف بھی اسی ایکٹ کے تحت کارروائی ہوگی جو شخص قانون نافذ کرنے والے اداروں کیخلاف گروہوں کی صورت میں یا انفرادی مسلح جدوجہد کی کارروائیوں میں ملوث ہوگا یا پھر ایم ایف اسٹیشنوں پر اپنے اعتقادات ، ارشادات اور عقیدے کو حکومت کی منظوری کے بغیر پھیلائے یا تبلیغ کرے وہ بھی دہشتگردی ایکٹ کے زمرے میں آئیگا اور اس کیخلاف کارروائی ہوگی دہشتگردی ایکٹ نمبر 27،1997ء کی دفعہ 7میں ترمیم بھی تجویز کی گئی ہے جس کے مطابق کوئی ملزم جو اس ایکٹ کے تحت مذکورہ جرم کا سزا یاب ہوگا اغواء برائے تاوان اور ہائی جیکنگ میں ملوث ہوگا تو اسے دس سال تک یا اس سے زائد سزائے قید دی جاسکے گی اور اس کی جائیداد ضبط کرلی جائیگی کوئی بھی کالعدم تنظیم نئے نام یا نئی تنظیم کے ساتھ کام نہیں کرسکے گی اس حوالے سے دفعہ 11ب میں ترمیم کی تجویز ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تنظیم جیسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شک پر ان کی کوئی بھی ذیلی تنظیم کالعدم تصور کی جائیگی اور حکومت باضابطہ اس کے کالعدم ہونے کا اعلامیہ جاری کرے گی کالعدم تنظیم کا کوئی بھی رہنما یا رکن پاسپورٹ حاصل کرسکے گا نہ ہی غیر ملکی سفر کی اجازت ہوگی بینک یا مالیاتی ادارہ انہیں مالی مدد قرض یا کریڈٹ کارڈ جاری نہیں کریگا کوئی شخص جو اس ایکٹ کے تحت کسی جرم میں ملوث رہ چکا ہو یا جس کیخلاف معقول شکایت کی گئی ہو یا معتبر معلومات موصول ہوچکی ہو یا اس کے ملوث ہونے کا ٹھوس شبہ موجود ہو تو حکومت ایسے کسی بھی شخص کیلئے 90دن کی نظر بندی کے تفتیش کے مقاصد کیلئے جاری کرسکے گی اور اسے کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا دہشتگردی کے واقعہ میں ملوث شخص سے تفتیش سب انسپکٹر کے عہدہ سے کم افسر نہیں کریگا یا پھر حکومت ایک مشترکہ تفتیشی ٹیم کا اعلان کریگی جس میں دوسرے تفتیشی اداروں کے افسران بھی شامل ہونگے اور تفتیشی افسر کو وفاقی تفتیشی ایجنسی ایکٹ 1974ء کے اختیارات حاصل ہونگے نظر بند کو چوبیس گھنٹے کے اندر بند کمرے میں انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیاجائے گا اگر تفتیش یا تحقیق کے دوران اس بات کے کافی شواہد موجود ہوں کہ کسی بھی مشتبہ شخص کی املاک جو کہ تحقیق اور تفتیش کے بعد متنازعہ ثابت ہوجائیں تو وہ فروخت کی جاسکیں گی نہ ہی عدالت کے حکم کے بغیر اس کا تصفیہ ہوسکے گا اور جو کوئی اس کی خلاف ورزی کریگا اسے دو سال تک کیلئے قید با مشقت یاجرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائینگی ایکٹ کی دفعہ ایف میں ایک نئی شق 7شامل کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملزم کے علاوہ شخص جو کسی املاک یا اثاثہ جات میں مفاد رکھتا ہو یا اس کی ملکیت کا دعویدار ہو جس کا بطور دہشتگرد املاک ہونے کا شبہ ہو اکاؤنٹ کے منجمد کرنے یا قبضے میں لینے یا مذکورہ املاک یا اثاثہ جات کو کنٹرول کرنے کے پندرہ یوم کے اندر جیسے بھی صورت ہو اپنا دعویٰ عدالت میں دائر کرسکے گا ۔12صحفات پر مشتمل اس ترمیمی بل میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ دہشتگردوں یا دہشتگرد سرگرمیوں کو فروغ دینے والے ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز بھی دہشتگردی ایکٹ میں آجائینگے اس ایکٹ کے تحت قومی سلامتی کے مفاد کے تحت وفاقی حکومت کسی بھی شخص یا افراد کی ٹیلی فون کالز اور پیغامات کو ٹیپ کرسکے گی اور مواصلاتی نظام کے ذریعے کالوں کا سراغ لگا سکے گی ایکٹ کی دفعہ 21 (د) میں ترمیم تجویز کی گئی ہے جس کے تحت دہشتگردی میں ملوث شخص کی کوئی عدالت ضمانت نہیں دے سکے گی جو کہ اس ایکٹ کے تحت ایسے جرم کا مجرم ہو جس کی سزا سزائے موت یا سزائے عمر قید یا دس سال سے زیادہ سزائے قید ہو ۔ شریعہ نظام عدل ضابطہ 2009ء کے تحت مقرر کردہ مجسٹریٹ کو وہی اختیارات حاصل ہونگے جو کہ ایکٹ کے تحت عدالت کو دیئے گئے ہیں اپنی تفتیش کو آگے بڑھانے کیلئے پولیس سپرٹینڈنٹ یا سکیورٹی فورسز کا آفیسر کسی بھی شخص سے کوئی معلومات طلب کرسکے گا دستاویز مانگ سکے گا ، تفتیش کرسکے گا جو کہ اس میں مطلوب ہیں کسی بھی بینک یا ادارے سے مطالبہ کرسکے گا کہ وہ کسی بھی شخص سے متعلق معلومات فراہم کرے ۔ ایکٹ کی دفعہ 21( خ) میں بھی ترمیم کی گئی ہے جس کے مطابق اعتراف جرم کا بیان جو کہ ضلعی پولیس آفیسر یا مساوی افسر یا مساوی افسر بشمول سکیورٹی افسر جو کہ فوج اور سکیورٹی کے علاقوں میں جن کا اعلان اس ایکٹ کی دفعہ 4کے تحت کیا گیا ہے دیوانی اختیار کے تحت مسلح افواج کے اراکین سول مسلح افواج ، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں ، سرکاری تنصیبات ، ہوٹلوں یا سرکاری املاک پر حملے میں ملوث ہونے سے متعلق شہادت میں قابل سماعت ہوگا ۔ وزیر داخلہ رحمان ملک نے اس ترمیمی بل کے آخر میں اغراض ومقاصد بتاتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی دہشتگردی کی دھمکیوں اور مسلح افواج ، سول مسلح افواج ، قانون نافذ کرنے والے اداروں ، سول اور حکومتی دفاتر اور تنصیبات پر حملوں نے سلامتی کے ماحول کو بری طرح متاثر کیا ہے غیر معمولی حالات ، دہشتگردانہ حملوں کو کچلنے اور جو اس میں ملوث پائے جائیں ان کو سخت سزا دینے کیلئے زیادہ قوانین کا تقاضا کرتے ہیں اور اس بل کو لانے کا مقصد بھی یہی ہے۔



Send to Others Printable View

 ) آپ کے راۓ :

 

 Name

 E-mail

 URL

 

آپ کا پتہ اور پوسٹل کوڈ محفوظ رہے گا

پچھلے مطالب

 • خفیہ دستاویزات کے افشا سے ایڈمرل مولن دہشت زدہ،پینٹاگون نے تحقیقات شروع کردی

 • غیرملکی ہاتھ ملک توڑنے کی سازش کررہا ہے، بلوچستان سے ایک لاکھ آبادکاروں کو نکال دیاگیا، رحمن ملک

 • کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، 2 افراد جاں بحق، ایک شدید زخمی

 • سردار عتیق بلامقابلہ آزادکشمیر کے نئے وزیراعظم منتخب

 • پاکستان نے امریکی افواج کے 4 سو ارکان کو ویزے جاری کر دیئے

اگلے مطالب

 • کراچی میں طوفانی بارش، 10 افراد جاں بحق، سڑکیں زیرآب مواصلاتی نظام درہم برہم

 • امریکا: عراق کی تعمیر نو کیلئے مختص8.7 بلین ڈالرز کی ر قم کاریکارڈ غائب

 • اسرائیل نے عرب آبادی پر مشتمل ایک گاؤں کو مسمار کر دیا

 • حادثے کا شکار طیارے میں سوار افراد کی فہرست

 • فضائی حادثے کے باعث وفاقی کابینہ کا اجلاس ملتوی

Sunday, September 05, 2010

Visit English Version

 

سرچ

خبريں
خبر نامہ

 آپکی نظرمیں

پاکستان میں دہشت گردی، امریکا، بھارت اور اسرائیل ملوث ہوسکتے ہیں

  ہاں
  نہیں
  پتہ نہیں

Sponsors Links

Pakistan peoples party

Pakistan Muslim League (Q)

Pakistan Muslim League (N)

Home | Archive | Search | Contact Us |  Links