غیرملکی ہاتھ ملک توڑنے کی سازش کررہا ہے، بلوچستان سے ایک لاکھ آبادکاروں کو نکال دیاگیا، رحمن ملک
اسلام آباد ......... وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ غیر ملکی ہاتھ پاکستان توڑنے کی سازش کر رہا ہے، بلوچستان سے ایک لاکھ آباد کاروں کو نکال دیا گیا ، 7 ماہ میں 252 افراد قتل کر دےئے گئے، صوبے کے ایک کالج میں قومی پرچم لہرایا نہیں جا سکتا اور نہ وہاں قومی ترانہ پڑھنے کی اجازت ہے، حیر بیار، ڈاکٹر اللہ نذر اور جاوید مینگل کی سربراہی میں کام کرنے والی نجی افواج کو ختم کرنا ہو گا، مہمند اور باجوڑ میں افغانستان سے شدت پسند اور اسلحہ لایا جا رہا ہے، طالبان پاکستان اور اسلام کے خیرخواہ نہیں، افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے کرزئی حکومت سے بات کی ہے۔ وہ سینیٹ میں سابق سینیٹر حبیب جالب بلوچ اور مولانا بخش دشتی کے قتل پر تعزیتی قرارداد پر بحث سمیٹتے ہوئے خطاب اور سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔ رحمن ملک نے کہا کہ آج فاٹا، خیبر پختونخوا، سوات اور بلوچستان میں خون بہہ رہا ہے، تشدد کے واقعات میں بلوچستان کے مقامی افراد کے ساتھ غیر ملکی ہاتھ بھی ملوث ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں رواں سال جنوری سے جولائی تک 3 فوجی افسران، 27 پولیس اہلکاروں، 55 پنجابی افراد، 21 پختونوں، 12 سندھیوں اور 112 دوسرے افراد سمیت 252 افراد قتل ہو چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ سے زائد آباد کار بے گھر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جن بلوچ رہنماؤں کو قتل کیا جا رہا ہے وہ بہت محب وطن ہیں، حبیب جالب بلوچ بھی ایک محب وطن شہری تھے، مولا بخش دشتی کے قتل میں ڈاکٹر اللہ نذر کا گروپ ملوث ہے۔ ہم بلوچستان کے واقعات میں ملوث خفیہ ہاتھ کو بے نقاب کرنے اور ان کے کیمپوں اور تربیت کی تفصیلات فراہم کرنے کو بھی تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ مہمند ایجنسی اور باجوڑ میں نورستانی، ازبک، تاجک اور دوسرے غیر ملکی افراد اور اسلحہ آ رہا ہے، ایک ہزار سے زائد غیر ملکیوں کو ہم نے پکڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیر بیار مری اور براہمداغ بگٹی کا کون سا ذریعہ معاش ہے کوئی تو ان کی مدد کر رہا ہے۔ مکران کی گلیوں سے لوگوں کو اکسایا جا رہا ہے اور پیسے کیلئے کام کرنے والے ہی یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ ماضی میں واقعی زیادتیاں ہوئی ہیں لیکن آج تمام سیاسی قیادت اور حکومت ان کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ بلوچستان میں چار نجی فوجیں ہیں۔ بلوچستان لبریشن آرمی حیر بیار چلا رہے ہیں‘ بلوچستان ریپبلک آرمی ڈاکٹر اللہ نذر بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ہیں اور لشکر بلوچستان جاوید مینگل کی ہے۔ ”ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم نے ان سے لڑائی نہیں کرنی ہے بات کرنی ہے۔ آئیں پاکستانی پرچم کی عزت کریں“۔