 |
|
|
اسلام آباد: طيارہ گرکر تباہ،150 مسافر سوار تھے
اسلام آباد : ترکي سے براستہ کراچي وفاقي دارالحکومت اسلام آباد جانے والا نجي ائير لائن کا طيارہ مارگلہ پہاڑيوں کے قريب گر کر تباہ ہو گيا?حکام کے مطابق طيارے ميں 157 افراد سوار تھے? جہاز کے ملبے سے10 لاشيں اور5 افراد کو زندہ نکال ليا گيا جبکہ ديگر امدادي کارروائياں جاري ہيں دوسري جانب اسلام آباد ايئرپورٹ ہيلپ ڈيسک قائم کردي گئي ہے? طيارہ کراچي سے اسلام آباد کيلئے صبح سات بجکر پچاس منٹ پر روانہ ہوا تھااور اسے نو بجکر تيس منٹ پر اسلام آباد کے بے نظير بھٹو ائير پورٹ پر لينڈ کرنا تھا تاہم يہ نو بجکر بائيس منٹ پر مارگلہ کي پہاڑيوں کے قريب کوہ دامن کے بائيں جانب گہرے جنگل ميں جاگرا? ذرائع کے مطابق حادثہ سے قبل طيارہ ايک بار رن وے کے اوپر سے بھي گزرا تاہم وہ لينڈ نگ کي اجازت نہيں دي گئي?عيني شاہدين کے مطابق طيارے کو پير سوہاوا کي پہاڑيوں سے ٹکراتے ہوئے ديکھا گيا جس کے بعد طيارے ميں آگ بھڑک اٹھي اور گہرا دھواں اٹھتا دکھائي ديا? ائير بلو کے ترجمان راحيل کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا ائير بس 320 تھا اور يہ ايک نيا اور جديد طيارہ تھا ، اس ميں کوئي تيکنيکي خرابي نہيں تھي? انہوں نے بتايا کہ حادثہ اسلام آباد ائير پورٹ پر لينڈ نگ سے قبل پيش آيا? تحقيقات کے بعد ہي حادثہ کي وجوہات سامنے آئيں گي? واقعہ کي اطلاع ملتے ہي امدادي ٹيميں جائے وقوعہ پر روانہ کر دي گئيں تاہم دشوار گزار راستہ ہونے کے باعث امدادي ٹيموں کو شديد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے? ذرائع کے طيارے ميں سوار مسافروں ميں چھ بچے بھي شامل ہيں? حادثے کے بعد وفاقي دارالحکومت کي تمام اسپتالوں ميں ايمرجنسي نافذ کر دي گئي ہے اور تمام عملے کو اسپتالوں ميں طلب کر ليا گيا?ڈپٹي کمشنر اسلام آباد عامر احمد کے مطابق اب تک تين زخمي افراد کي بھي اطلاع ہے? انہوں نے بتايا کہ جائے وقوعہ تک کوئي سڑک موجود نہيں ، يہ ايک پتھريلا علاقہ ہے ، جھاڑيوں کے باعث زمين نظر نہيں آ رہي لہذا يہاں پيدل جانا بھي انتہائي مشکل ہے ، اس تمام تر صورتحال ميں ہيلي کاپٹر کے ذريعے ہي امداد ممکن ہے? امدادي ٹيموں کو ہيلي کاپٹر کے ذريعے ہي جائے وقوعہ پر پہنچايا جا رہا ہے اور اب تک دس لاشيں اور پانچ زخميو ں کو اسپتال منتقل کر ديا گيا?حادثے کے شکار ہونے والے طيارے کے پائلٹ پرويز چوہدري اور منتج الدين تھے? جبکہ ايئر ہوسٹسز ميں امہ حبيبہ ،حنا عثمان، جويريہ فراز اور ناہيد بھٹي شامل تھيں? ايئر بلو سے جاري ہونے والي مسافروں کي فہرست کے مطابق طيارے ميں پيارعلي ، امتياز علي ، سيد شان حسين نقوي ، پريم چند، جاويد حسن خان ، سيد ارسلان احمد، محمد طفيل ، عبدالرحمن ، محمد فيصل رشيد ، محمد اويس ، حسين عالم ، غلام عباس ، نويد الياس ، محمد علي مغل ، محدآفتاب، شيرين لودھي ،محمد نواب الحسن ، عاصم آرائيں ، علي شيرازي ، محمد بشير ،زاہدہ بي بي ، ڈاکٹرمرکو،عائشہ بيگم ،محمد عمر خان ، حاجي رحمت گل ، مشاء داو?د،علي اصغر راجہ بالي ، راشدہ طيب خان ، مرتضي طيب خان ، ملک محمد يوسف ،نبيل لطفي ، منظور ناصر، سليم احمد ، روزي احمد، صلاح الدين سعيد ، حامدجاويد ، محمد يوسف ، عطاراجہ ، سليمان خان بجاراني ، مہران خان بجاراني سميت متعدد مسافر سوار تھے? مسافروں کے لواحقين پريشاني کے عالم ميں ايئر پورٹ پر موجود ہيں?طيارے ميں سوار افراد کي معلومات 0519211223سے حاصل کي جاسکتي ہيں?
|