صدر پاکستان کا دورہ چین....شہ رگ…ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ

 

 
 

نیوز نمبر :  7400              Visited: 36                 

 

 

 [Prev]  [Next]       


صدر پاکستان کا دورہ چین....شہ رگ…ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ


         


صدر آصف علی زرداری6روزہ دورہ چین ختم کرکے آئے ہیں۔ صدر بننے کے بعد یہ ان کا پانچواں دورہ ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان چین سے تعلقات کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ 21 جولائی کو پاکستان اور چین کے تعلقات کی 60 ویں سالگرہ ہے جن کو دونوں ممالک جوش و خروش سے منانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پاکستان پہلا اسلامی ملک تھا جس نے 1951ء میں اپنے سفارتی تعلقات چین سے قائم کئے۔ پاکستان نے ہی امریکہ کے ساتھ چین کے تعلقات استوار کرائے اور اقوام متحدہ میں چین کی شمولیت کی پرزور حمایت کی اور آج ہم یہ بات وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ چین نے کشمیر اور تمام ایشوز پر پاکستان کی اور پاکستان نے تائیوان، تبت اور دوسرے ایشوز پر چین کی مکمل حمایت کی ہے حالانکہ اس عرصے میں بھارت نے چین کے مغربی صوبے سنگیان میں مسلمانوں کے بھیس میں اپنے ایجنٹ بھیج کر وہاں دہشت گردی کی کارروائی کرائی اور کہا کہ اس کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے لیکن بعد میں چین کو اصل حقائق کا علم ہوگیا۔ 2008ء میں ممبئی بم دھماکوں کے ردعمل کے طور پر بھارت نے پاکستان پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تو چین نے بھارت کو واضح طور پر بتادیا کہ اگر جنگ ہوئی تو وہ پاکستان کا ساتھ دے گا۔ پاکستان کو آج جو دفاع کے شعبے میں مہارت حاصل ہوئی ہے اس کا سب سے زیادہ کریڈٹ چین کو جاتا ہے۔چین نے ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ہمیں انفرااسٹرکچر بھی بناکر دیا۔ ہیوی مکینکل کمپلیکس ٹیکسلا وغیرہ اس کی مثال ہیں جہاں آج ہم فوجی ساز و سامان تیار کررہے ہیں۔ گوادر پورٹ جو خطے میں نہایت اہم حیثیت کی حامل ہے، چین ہی کی مدد سے عمل میں آئی۔ پاک چین دوستی معاشی زاویئے سے دیکھنے سے پہلے میں اپنے قارئین سے ایک بات شیئر کرنا چاہوں گا کہ آنے والے دو یا تین سالوں میں جب امریکی اور نیٹو کی فوجیں بالآخر افغانستان سے واپس بلالی جائیں گی تو یقیناً امریکہ اور یورپ کا پاکستان کے ساتھ رویہ بھی تبدیل ہوجائے گا۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس وقت خطے میں حالات کتنے اچھے یا کتنے خراب ہوسکتے ہیں لیکن ہمیں اس مشکل وقت میں اگر کوئی ملک حقیقی معنوں میں مدد کرسکتا ہے تو وہ قابل اعتماد دوست ملک چین ہے۔


صدر پاکستان آصف علی زرداری سے ایوان صدر میں میری گزشتہ ملاقات کے دوران صدر پاکستان نے مجھے بتایا کہ وہ چین سے زراعت کے شعبے میں ان کی جدید ٹیکنالوجی جلد از جلد پاکستان منتقل کرنے کے خواہاں ہیں۔ پاکستان کی معاشی ترقی زراعت کی ترقی سے منسلک ہے۔ کاٹن، گیہوں، گنا وہ فصلیں ہیں جن کی خراب کارکردگی سے ملکی صنعت اور کھانے پینے کی اشیاء میں مہنگائی سے ایک عام شخص بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ زراعت کے شعبے میں چین نے ڈرپ ایری گیشن اور فی ایکڑ پیداواریت میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے ذریعے بڑی مہارت حاصل کی ہے اور اس کو حاصل کرکے پاکستان بھی فصلوں کی فی ایکڑ پیداواریت جو اس وقت خطے میں سب سے کم ہے کو بڑھاجاسکتا ہے۔ اسی طرح چین نے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر،ہائیڈرو، کوئلے، ونڈمل، نیوکلیئر اور متبادل انرجی کے ذرائع کے توسط سے اپنے آنے والے 20 سالوں کی انرجی کی ضروریات کو پورا کرلیا ہے۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے نہایت افسوس ہورہا ہے کہ چین کی ایک کمپنی نے جو کول مائننگ اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کی مہارت رکھتی تھی نے گزشتہ حکومت میں تھرکول پروجیکٹ پر کئی سال کام کیا اور پروجیکٹ کی فزیبلٹی رپورٹ تیار کی لیکن صرف ایک سینٹ کی قیمت کے فرق کو افسر شاہی نے ماننے سے انکار کردیا اور چینی کمپنی اپنے پروجیکٹ کو بند کرکے کئی سالوں کی محنت سے تیار کی ہوئی فزیبلٹی رپورٹ اپنے ساتھ واپس لے گئی۔اگر اس کمپنی کو اس وقت پروجیکٹ پر کام کرنے کی اجازت دے دی جاتی تو آج پاکستان بھی جرمنی، پولینڈ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح کوئلے سے سستی بجلی 100 سالوں تک ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے حاصل کرسکتا تھا۔


صدر پاکستان نے اپنے موجودہ دورے میں چین میں دفاع، پیٹرولیم، بینکنگ، تعمیرات اور انرجی سیکٹر کی ایک درجن سے زیادہ کمپنیوں جس میں چائنا انڈسٹریز، چائنا ایگزم بینک،چائنا پیٹرو کیمیکل، سنڈیک سائنو ہائیڈرو کارپوریشنز بھی شامل تھیں کے سربراہان سے ملاقات میں انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے اور انہوں نے پاکستان میں بجلی کی پیداوار میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اس دورے میں دوطرفہ معاشی تعاون کو بڑھانے کے ایک معاہدے اور چار MOU`s پر دستخط ہوئے ہیں۔ چین کے صدر نے پاکستان میں نئے منصوبوں کے لئے 50 ملین ین کی گرانٹ کا بھی اعلان کیا جس میں نیلم، جہلم پروجیکٹ بھی شامل ہے۔ چین نے پاکستان کے ساتھ سول نیوکلیئر انرجی کے مجموعی 600 میگاواٹ کے 2 ری ایکٹرز چشمہ III اور چشمہ IV پاکستان کو سپلائی کرنے کا معاہدہ کیا ہے حالانکہ امریکہ اور بھارت کی جانب سے اس پر اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں لیکن چین نے انہیں مسترد کردیا ہے۔ یاد رہے کہ بھارت نے خود سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حصول کے معاہدے امریکہ، کینیڈا، روس اور دوسرے ممالک سے کئے ہوئے ہیں۔اس دورے میں سندھ کے ساحلی علاقے میں ہوا سے 500 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی ایک یادداشت پر بھی دستخط کئے گئے ہیں جس کی مالیت تقریباً ایک ارب ڈالر ہوگی۔


پاکستان اور چین کے درمیان اس وقت فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA)ہے جس کے تحت دونوں ممالک میں امپورٹ اور ایکسپورٹ پرکوئی کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکسز نہیں ہیں۔ پاکستان اور چین کی باہمی ٹریڈ اس وقت تقریباً 7 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور اس سال اس میں 31% اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح چین پاکستان کا دوسرا بڑا تجارتی پارٹنر بن چکا ہے لیکن میرے نزدیک FTA کے صحیح فوائد اسی وقت حاصل ہوتے ہیں جب دونوں ممالک آپس میں جوائنٹ وینچرز کرکے بنائی ہوئی اشیاء کو مقامی مارکیٹ کے علاوہ اپنے ملکوں کو بغیر ڈیوٹی ایکسپورٹ کریں۔ چین کی تعمیراتی کمپنیاں دنیا بھر میں سرفہرست ہیں۔ صدر پاکستان نے ان کمپنیوں کو پاکستان کی کمپنیوں کے ساتھ کنسورشیم بناکر پاکستان میں سستے مکانات بنانے کی تجویز دی ہے جس میں حکومت پاکستان اپنی ایکویٹی کے طور پر زمین دے سکتی ہے۔ ایک اور یادداشت کے تحت چین گلگت بلتستان میں 2 ہائی ویز بنائے گا جس کی تعمیر پر تقریباً 45 ارب روپے لاگت آئے گی جس کا 85% چین ادا کرے گا۔


میں پاکستان امریکہ تجارت بڑھانے کے لئے اگلے ہفتے نیویارک جارہا ہوں جہاں میری پاکستان کے سفیر حسین حقانی، پاکستان کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک اور امریکہ میں پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی رسائی کے سلسلے میںاعلیٰ امریکی حکام سے میری ملاقاتیں ہیں۔اس سے پہلے میرے علاوہ صدر اور وزیراعظم پاکستان نے یورپی یونین میں مارکیٹ رسائی کے لئے کئی ملاقاتیں کی ہیں لیکن ابھی تک یورپی یونین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں مارکیٹ رسائی نہیں دی حالانکہ صدر اور وزیراعظم پاکستان نے بارہا اپنا یہ موقف اپنے اتحادیوں پر واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں ہمیں ایڈ کے بجائے ٹریڈ کی ضرورت ہے ۔ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اب مغرب کے ساتھ ساتھ مشرق کی جانب بھی اپنی توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ امریکہ اور یورپ کے بڑے بڑے معیشت دانوں نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ آنے والی دہائی میں سب سے زیادہ معاشی ترقی ایشیاء میں ہوگی لہٰذا ہمیں علاقائی تجارت کے کامیاب ماڈل کو اپنانا ہوگا اور خطے کے ممالک سے باہمی تجارت کو فروغ دینا ہوگا جس میں چین سرفہرست آتا ہے۔



Send to Others Printable View

 ) آپ کے راۓ :

 

 Name

 E-mail

 URL

 

آپ کا پتہ اور پوسٹل کوڈ محفوظ رہے گا

پچھلے مطالب

 • چین کی کامیابیوں سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت

 • کشمیر۔ایک مسلسل جدوجہد ....ڈاکٹرملیحہ لودھی

 • دوا، دُعا اور جد و جہد....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان

 • لاہور: سیشن جج کیخلاف وکلاء کا احتجاج، ججوں کی گاڑیوں پر پتھراؤ

 • اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا،محمود عباس

اگلے مطالب

 • بھارت کے سیٹلائٹ کا تجربہ چوتھی بار ناکام

 • خیبر مہمند ایجنسی: بڑے پیمانے پر فورسز کا سرچ آپریشن، 45 افغانوں سمیت 330 مشتبہ افراد گرفتار

 • جنرل کیانی سے ڈیوڈ پیٹریاس اور امریکی سفیر کی الگ الگ ملاقات

 • مقبوضہ کشمیر میں انسانی صورتحال، ضروری معلومات کررہے ہیں، اقوام متحدہ

 • بینظیر بھٹو قتل رپورٹ پر پاکستانی اعتراضات، اقوام متحدہ نے جواب تیار کرلیا

Sunday, September 05, 2010

Visit English Version

 

سرچ

خبريں
خبر نامہ

 آپکی نظرمیں

پاکستان میں دہشت گردی، امریکا، بھارت اور اسرائیل ملوث ہوسکتے ہیں

  ہاں
  نہیں
  پتہ نہیں

Sponsors Links

Pakistan peoples party

Pakistan Muslim League (Q)

Pakistan Muslim League (N)

Home | Archive | Search | Contact Us |  Links