کیا امریکا افغان دلدل میں دھنس رہا ہے؟ ........ نوید اختر
گزشتہ روزجی 20 سربراہ اجلاس میں امریکی صدر باراک اوماما نے تسلیم کیا ہے کہ افغانستان کا سیاسی حل نکالنا ہو گا ،اور وہاں آئندہ سال سیکیورٹی کی ذمہ داریاں منتقل کرنا شروع کر دیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ لڑی جا رہی ہے ۔انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد کی فضا کو مفید قرار دیا ۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت افغانستان امریکا کے لئے ایک ایسی دلدل بن چکی ہے جس سے وہ آسانی کے ساتھ نہیں نکل سکتا ، جس کی واضح مثال امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پینیٹاکا بیان ہے جس میں انہوں نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کے خلاف جنگ میں ابھی اور بھی مشکلات آ سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ توقعات سے زیادہ طول بھی پکڑ سکتی ہے۔
ادھرامریکی کمانڈر جنرل میک کرسٹل کو برطرف کر کے ان کی جگہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کا تقرر کیا ہے۔ کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ افغانستان میں نیٹو افواج کی ہلاکتیں نہ صرف ڈیوڈ پیڑیاس کے لئے ایک چیلنج ہیں بلکہ امریکہ کی افغان پالیسی کا بھی ایک کڑا امتحان ہے ۔ جنرل میک کرسٹل کی برطرفی کے بعد امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیکل مولن فوراً اسلام آباد پہنچ گئے اور صدر آصف علی زرداری اور عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کی ، جس کے بعد پاکستان اور امریکا کے درمیان ایف سولہ سے متعلق پایا جانے والا دیرینہ مسئلہ بھی حل ہوتا ہوا نظر آتا ہے اور امریکا کی جانب سے تین طیارے پاکستان پہنچا دیئے گئے ہیں ۔
واضح رہے کہ انیسو اسی کی دہائی میں پاکستان اور امریکا کے درمیان ایک سولہ طیاروں کی فراہمی کا معاہدہ طے پایا تھا تاہم انیسو نوے کی دہائی میں یہ تعطل کا شکار ہو گیا تھا ۔ پاکستان میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے ایک علامیہ جاری ہواتھا جس کے مطابق مولن نے پاکستان کے ساتھ طویل المدتی شراکت قائم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اعلامیئے میں وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اور دیگر امریکی حکام کے ان بیانا ت کا بھی حوالہ دیا گیا جن میں انہوں نے پاکستان کے ساتھ تعاون بند کرنے کی غلطی کو نہ دہرانے کا عندیہ دیا تھا ۔
امریکا کی جانب سے ان تمام اقدامات کی ایک وجہ تو یہ نظر آتی ہے کہ اسے افغانستان میں شدید مشکلات کاسامنا ہے ۔جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق رواں سال نیٹوفورسز کو افغانستان میں سخت مزاحمت کا سامنا ہے ۔ 2001 کے امریکی حملے کے بعد سے لے کر اب تک افغانستان میں مارے جانے والے نیٹو فوجیوں کی تعداد 1883 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں 1139 امریکی اور 308 برطانوی ہیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نیٹوافواج پر حملوں میں تیزی آ رہی ہے ۔
جون میں اب تک اتحادی فوج کے 100 کے قریب اہلکارہلاک ہو چکے ہیں۔گزشتہ سال نیٹو کے 521 فوجی طالبان جنگجووں کے حملوں کا شکار ہوئے تھے جب کہ اس سال اب تک 319 فوجی ہلاک ہوچ کے ہیں۔ ان مرنے والوں میں 190 سے زائد امریکی اور 63 برطانوی ہیں جب کہ بقیہ 60 سپاہیوں کا تعلق نیٹو سے تعلق رکھنے والے دوسرے ممالک سے ہے۔ہلاکتوں کے اِن واقعات پر امریکی حکام پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں اب افغانستان میں جنگی حکمتِ عملی کے حوالے سے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔
نیٹو فورسز کو ملنے والے ٹف ٹائم نے اکثر فوجیوں کو نفسیاتی مریض بنادیا ہے اور رپورٹس کے مطابق افغانستان میں تعینات نیٹو فورسز کی سائیکو تھراپی کیلئے یورپی ممالک اور امریکہ سے خصوصی ماہرین نفسیات طلب کئے گئے ہیں۔ جنہیں فوجی یونٹوں میں تعینات کیا جائے گا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق امریکی افواج میں خود کشی کی بڑھتی ہوئی شرح نے بھی امریکیوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ واضح رہے کہ 2007ءکے دوران 115 اور 2008ء کے دوران 140 ، دو ہزار نو میں 150 سے زائد امریکی فوجی موت کو اپنے ہاتھوں گلے لگا چکے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں بھگوڑے اور نفسیاتی بن چکے ہیں۔
اگر غور اس تمام تر صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اس وقت افغانستان کی بگڑی صورتحال میں امریکانے اپنی زیادہ تر امیدوں کا مرکز پاکستان کو بنا لیا ہے اور وہ ہر طرح سے کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان کو یقین دلایا جائے کہ وہ اس کا مخلص ہے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اوباما افغانستان میں کیسا سیاسی حل چاہتا ہے ؟ کیا وہ طالبان سے سے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کرنا چاہتے ؟
دوسری جانب بھارت بھی افغانستان میں کی صورتحال پر اثرانداز ہونے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اور گزشتہ روز من موہن اوباما ملاقات میں بھی بھارت کی کوشش رہی کہ وہ پاکستان کی زیادہ سے زیادہ شکایتیں کرے اور یہ ثابت کرے کہ تمام تر دہشت گردی کی جڑ پاکستان ہے ۔ تاہم اگر امریکا بھارت کی باتوں پر یقین کر کے نیٹو افواج کی افغانستان سے رخصتی کے بعد بھارت کو سیکیورٹی معاملات دینے سے متعلق سوچتا ہے تو یہ جنگ ایک نیا رخ اختیار کرلے گی اور طالبان کبھی برداشت نہیں کریں گے کہ افغانستان میں بھارت کا اثر رسوخ ہو۔
امریکا جانتا ہے کہ افغانستان کی صورتحال پاکستان کے ساتھ منسلک ہے لہذا اس کی کوشش ہے کہ وہ پاکستان کو مطمین کرے لیکن یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اگر نیٹو فورسز کا افغانستان سے انخلا ہوتا ہے تو اس کے بعد پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتحال کیا ہو گی ۔2001 میںنیٹو فورسز کے افغانستان میں داخلے نے پاکستان پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور اب خدشہ ہے کہ نیٹو کے انخلاکے بعد ایک بار پھر پاکستان کے لئے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں ۔امریکا ایک بار پھر اپنے مفادات پورے کر کے پاکستان کو تنہا کر سکتا ہے۔ لہذا اس تمام تر صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کو آنے والے حالات کے لئے تیار ہونا ہو گا تاکہ اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹا جاسکے اور اس کے لئے ابھی سے حکمت عملی طے کرنی ہو گی ۔