افغان حکمت عملی پر امریکی حکام میں اختلافات …... نوید اختر

 

 
 

نیوز نمبر :  7212              Visited: 38                 

 

 

 [Prev]  [Next]       


افغان حکمت عملی پر امریکی حکام میں اختلافات …... نوید اختر


 


آخر کار بلی تھیلے سے باہر آ گئی اور افغان جنگ پر امریکی حکام آپس میں الجھے نظر آتے ہیں ۔افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جرنل اسٹینلے میک کرسٹل کے بیان نے امریکی انتظامیہ میں کھل بلی مچا دی ہے اورافغان جنگ میں امریکی حکام کے اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں ۔


جنرل میک کرسٹل نے رولنگ سٹون نامی ایک میگزین میں انٹرو یو دیا تھا جس میں انہوں نے افغان حکمت عملی کے سلسلے میں اوباما انتظامیہ کے کئی عہدے داروں پر کڑی نکتہ چینی کی ۔ اس آرٹیکل میں میک کرسٹل نے افغانستان میں تعینات امریکی سفیر کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ فوجی کمانڈر نے نائب امریکی صدر جوبائیڈن، امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جیمزجونز اورپاکستان اورافغانستان کے لئے خصوصی امریکی مندوب رچرڈ ہالبروک کو بھی آڑھے ہاتھوں لیا۔


اس انٹرویو میں کرسٹل کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اوباما کے ایک اعلیٰ عہدے دار کو مسخرہ اور رچرڈ ہالبروک کو زخمی جانور کہہ کر پکارا۔رولنگ اسٹون میگزین سے منسلک صحافی ہیسنگز نے میک کرسٹل اور ان کی ٹیم کا انٹرویو لیا ہے اور اس حوالے سے صحافی کا کہنا ہے کہ جنرل افغان جنگ کی پالیسی پر اپنا عدم اطمینان انتظامیہ تک پہنچانا چاہتے تھے ۔ ہسینگز کے مطابق ایک صحافی کی حثیت سے ان کے لئے اس انٹرویو کی ہیڈ لائن یہ تھی کہ افغان جنگ اوباما کے کنٹرول سے نکل گئی ہے ۔


میک کرسٹل کے حوالے سے یہ تنازعہ ایک ایسے وقت میں منظرعام پر آیا ہے، جب افغانستان میں طالبان باغیوں کے خلاف امریکی اتحادی افواج کا آپریشن ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ بعض ناقدین کے خیال میں اس صورتحال میں اگر جنرل میک کرسٹل کو افغانستان سے واپس بلوا لیا جاتا ہے تو افغان مشن پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


اگر چہ اس انٹرویو پر کرسٹل کی جانب سے معافی مانگی گئی ہے اور مستعفی ہونے کی پیشکش بھی کر دی ہے تاہم صدر براک اوباما کافی برہم نظر آتے ہیں اور آج وہ ان سے بالمشافہ ملاقات کرنے کے بعد کوئی فیصلہ صادر کریں گے ۔ اس سے پہلے وائٹ ہاوٴس کے ترجمان نے کہا تھا کہ صدر اوباما جنرل مک کرسٹل کی ایک امریکی میگیزین میں چھپی باتوں پر اپ سیٹ ہیں۔


 وزیر دفاع گیٹس نے کرسٹل کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مک کرسٹل سے ایک بڑی غلطی سرزد ہوئی۔گیٹس نے یہ بھی کہا کہ مک کرسٹل نے اْن سے معذرت کی ہے،اور اِسی طرح سے، جن دوسری شخصیات کا مضمون میں نام آیا ہے اْن سے بات کرکے معذرت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ القاعدہ اور اِس کے انتہاپسند اتحادیوں کے خلاف جنگ لڑی جار رہی ہے کیونکہ وہ امریکہ، افغانستان اور دنیا میں امریکہ کے اتحادیوں کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ ”ہمیں اپنے مقصد کے حصول کے لیے متحد ہو کر کوششیں کرنی ہو ں گی۔


دوسری طرف مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے میک کرسٹل کی حمایت کی ہے۔ راسموسن کے ترجمان نے بتایا ہے کہ رولنگ سٹون میں شائع ہونے والا یہ آرٹیکل اگرچہ مناسب نہیں ہے تاہم یہ صرف ایک مضمون ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان مشن میں اتحادی افواج اس وقت ایک تنازعہ کے بیچ گھری ہوئی ہیں اور نیٹو کے سربراہ اس صورتحال میں جنرل سٹینلے میک کرسٹل اوران کی حکمت عملی پر بھرپوراعتماد رکھتے ہیں۔


اس حوالے سے افغان صدر حامد کرزئی بھی جنرل میک کرسٹل کی حمایت میں کود پڑے ، ان کا کہنا ہے کرسٹل افغانستان میں عالمی فورسز کے سب سے کامیاب اور بہترین جرنیل ہیں اور امید ہے کہ انہیں اس عہدے سے نہیں ہٹایا جائے گا ۔


چودہ اگست 1954 میں پیدا ہونے والے میک کرسٹل کو دس جون دو ہزار نو کو امریکی سینیٹ کی جانب سے افغانستان میں کمانڈ کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ تعیناتی کے بعد انہوں نے 66 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کی تھی جس میں امریکی حکام کو خبردار کیا گیا تھا کہ افغان جنگ ہاتھ سے نکل رہی ہے اور اگر تیس سے چالیس ہزار مزید فوجی نہ بھیجے گئے تو ہار امریکا اور اس کے اتحادیوں کا مقدر ہے ۔


 اس رپورٹ کے بعد صدر اوبامانے جنرل مک کرسٹل کے منصوبے سے اتفاق کرتے ہوئے افغانستان میں30 ہزار اضافی امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا تھا۔میک کرسٹل کے بیان نے جہاں نئی بحث کو جہنم دیا ہے وہیں اس کے بعد آنے والے حمایت اور مخالفت میں بیان کا سلسلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی حکام میں افغانستان سے متعلق حکمت عملی میں کچھ تو ایسی چیزیں ہیں جن پر ان کی سخت مخالفت ہے اور وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔



Send to Others Printable View

 ) آپ کے راۓ :

 

 Name

 E-mail

 URL

 

آپ کا پتہ اور پوسٹل کوڈ محفوظ رہے گا

پچھلے مطالب

 • لاہور : صوبائی حلقے پی پی160میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ شروع ہوگئی

 • صدر زرداری کا نواز شریف کوفون ،ملکی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال

 • جو بائیڈن کا وزیراعظم گیلانی کو فون ،ایساف کمانڈر کی تبدیلی پراعتماد میں لیا

 • کراچی : شاہ فیصل کالونی میں فائرنگ، سیاسی کارکن ہلاک

 • "1969 میں امریکا نے شمالی کوریا پر ایٹمی حملہ کرنے پر غورکیا تھا"

اگلے مطالب

 • میک کرسٹل کے بعد ہالبروک اگلا ہدف ہو سکتے ہیں:امریکی اخبار

 • منموہن کے دورہ پاکستان کی تاریخ 14 جولائی کو طے ہوگی

 • آل کراچی فٹبال ٹورنامنٹ

 • کبھی یہ نہیں کہاکہ دہشت گردی خطے کا واحد مسئلہ ہے ، چدم برم

 • ہمارے کارکنوں کا قتل شہر کا امن خراب کرنے کی سازش ہے ، ایم کیو ایم

Sunday, September 05, 2010

Visit English Version

 

سرچ

خبريں
خبر نامہ

 آپکی نظرمیں

پاکستان میں دہشت گردی، امریکا، بھارت اور اسرائیل ملوث ہوسکتے ہیں

  ہاں
  نہیں
  پتہ نہیں

Sponsors Links

Pakistan peoples party

Pakistan Muslim League (Q)

Pakistan Muslim League (N)

Home | Archive | Search | Contact Us |  Links