اسرائیل کا ایک اور ظلم

 

 
 

نیوز نمبر :  6948              Visited: 51                 

 

 

 [Prev]  [Next]       


اسرائیل کا ایک اور ظلم 


 


اسرائیلی بحریہ کے سینکڑوں کمانڈوز نے پیر کی صبح غزہ کے مکینوں کیلئے امدادی سامان لے جانے والے 6 غیرمسلح جہازوں کے قافلے پرحملہ کردیا۔ حملہ میں 20 افراد ہلاک اور 60 کے قریب زخمی ہوگئے۔ ترک حکومت نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیل کا غیرانسانی اقدام قرار دیا ہے اور اسرائیلی سفیر کیبی لیوی کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے اس پر شدید احتجاج کیا ہے۔


 ترک امدادی ادارے ہیومینٹیرین ریلیف فاؤنڈیشن نے بین الاقوامی اداروں اورممتاز شخصیات کے تعاون سے گزشتہ کئی سال سے غزہ میں محصورلاکھوں فلسطینی باشندوں کیلئے 10 ہزار ٹن امدادی سامان فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جس کو6بحری جہازوں کے ذریعہ پیرکوغزہ پہنچایاجاناتھا۔ ان بحری جہازوں پر امدادی سامان کے ساتھ ساتھ 40 ممالک سے تعلق رکھنے والے 700 افراد بھی سوار تھے جن میں امریکی سفارتکار،حقوق انسانی کے علمبردار، ترکی ، جرمنی، سویڈن ، آئرلینڈ ، ملائیشیا اور فلسطین کے ارکان پارلیمنٹ بھی شامل ہیں ۔


 اسرائیلی وزیر خارجہ ایویگڈور لبرمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ کے محصور مکینوں کیلئے امداد لے کرجانے والے 6بحری جہازوں پر سوار افراد اور اس منصوبے کے منتظمین کا مقصد محض اسرائیل کو اشتعال دلانا تھا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر یہ لوگ انسانی حقوق کے علمبردار تھے اور فلسطینیوں کی حقیقت میں مدد کرنا چاہتے تھے تو یہ حماس سے مغوی اسرائیلی فوجی غیلادشالت کی ریڈ کراس کے ارکان سے ملاقات کی اجازت کا مطالبہ کرتے ۔ادھر حماس نے اسرائیلی کمانڈوز کے حملے میں جاں بحق ہونے والوں کو فلسطینی قوم کے ہیرو اور شہداء قرار دیا ہے اور فلسطینی صدر محمود عباس نے ان کیلئے 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔


 بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی بحریہ کے سینکڑوں کمانڈوز نے امدادی سامان لے جانے والے جہازوں جن کو ”فریڈم فلوٹیلا“ کا نام دیا گیا تھا، غزہ کے ساحل سے ڈیڑھ سوکلومیٹر دور بین الاقوامی سمندری حدود میں نشانہ بنایا۔ اسرائیلی کمانڈوز فریڈم فلوٹیلا میں شامل ماوی رمارا ،نامی جہاز پر چڑھ گئے اور انہوں نے اس میں سوار نہتے افراد پرفائرکھول دیا۔


 اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری بیان کے مطابق جہاز پر موجود افراد نے ڈنڈوں سے 4 اسرائیلی کمانڈوزکو زخمی کردیا۔ ترک حکام کے مطابق


اسرائیلی بحریہ کے جنگی جہاز وں اورہیلی کاپٹروں نے امدادی سامان لے جانے والے تمام جہازوں کو گھیرے میں لے کر ان کا رخ موڑ دیا ہے اور اب وہ اشدود کی بجائے اسرائیلی بندرگارہ حیفہ کی طرف لے جائے جارہے ہیں۔


ذرائع ابلاغ کے مطابق امدادی سامان لے جانے والے بحری جہازوں جن میں ایک امریکی بحری جہاز بھی شامل ہے، نے اسرائیلی بحریہ کی طرف سے گھیرے میں لئے جانے کے بعد تصادم سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی اور جہاز کی رفتار سست کرلی تاہم ان کی کوئی تدبیر کارگرنہ ہوئی۔


فلسطینی وزیراعظم اسماعیل حانیہ نے ایک بیان میں بین الاقوامی برادری کے نمائندوں کی طرف سے غزہ کا اسرائیلی محاصرہ توڑنے کی اس کوشش کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی طرف سے انسانی حقوق کی اس کھلی اور سنگین خلاف ورزی پر احتجاج کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت سے ہر قسم کی بات چیت فوراً معطل کردے۔ انہوں نے عرب لیگ اور او آئی سی سے اپیل کی کہ وہ غزہ کا محاصرہ ختم کرانے کیلئے عملی اقدامات کریں۔


ترک اور فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی کمانڈوز کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کی شناخت کی تصدیق نہیں کی جاسکتی کیونکہ اسرائیلی حملے کے فوراً بعد ان جہازوں کے مواصلاتی نظام کو تباہ کردیا گیا۔ غزہ کیلئے امداد بھجوانے کا اعلان کرنے والے اداروں نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے کام کرنے والے اداروں اورافراد نے بدترین اسرائیلی جارحیت پر فوری احتجاج کی اپیل کردی ہے۔


 انقرہ میں ہزاروں افراد نے اس واقعہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے جلوس نکالا اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکورٹی اور فارن پالیسی کمیشن کے سربراہ علاء الدین بروجردی نے صیہونی ریاست کے اس جارحانہ اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ اسرائیلی حملے کانشانہ بننے والے بحری جہازوں نے اپنے سفر کا آغاز اتوار کو قبرص کی بندرگارہ سے کیا تھا۔یورپی یونین نے واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔


 یونان نے اسرائیل کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں ختم کرنے کا اعلان کردیا، اسرائیلی فوجیوں نے تمام جہازوں پر قبضہ کرلیا اور زندہ بچ جانے والوں اور زخمیوں کو گرفتارکرکے اشدود کی بندرگارہ پرمنتقل کردیا۔


فلسطینی صدرمحمود عباس نے امدادی سامان لے جانے والے جہازوں پر اسرائیلی کمانڈوز کے حملے کو قتل عام قرار دیا ہے۔یونان اورسویڈن نے بھی اسرائیلی سفیروں کو طلب کرکے اس واقعہ پراحتجاج کیا ہے۔ واقعے پر غور کیلئے کویت کی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔



Send to Others Printable View

 ) آپ کے راۓ :

 

 Name

 E-mail

 URL

 

آپ کا پتہ اور پوسٹل کوڈ محفوظ رہے گا

پچھلے مطالب

 • ججزکے حلف کی تبدیلی سے جمہوریت کا تسلسل ہوگا، چیف جسٹس

 • کابل امن جرگے پر حملہ، طالبان نے ذمہ داری قبول کرلی

 • 3پاکستانیوں سمیت رہائی پانیوالا قافلہ اسرائیل سے اردن پہنچ گیا

 • پنجابی طالبان جنوبی پنجاب میں خطرناک ہوچکے،رحمن ملک

 • اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مشرقی خان یونس میں دو فلسطینی شہید

اگلے مطالب

 • امدای قافلے پر اسرائیلی حملہ ۔ امریکہ اور عرب شرم کریں ..... نگہت نسیم

 • پاکستان سے تعلقات بھارت کی قیمت پر نہیں ہوں گے، امریکا

 • پاکستان کیخلاف یکطرفہ کارروائی کے امریکی آپشنز انتہائی محدود ہیں

 • لیاری میں گینگ وار پھر شروع، 8 افراد ہلاک، 9 زخمی، بغدادی تھانے پر دستی بموں اور راکٹوں سے حملہ

 • اسلام آباد: صدرزرداری کا ترک صدر کو فون ،اسرائیلی جارحیت کی مذمت

Sunday, September 05, 2010

Visit English Version

 

سرچ

خبريں
خبر نامہ

 آپکی نظرمیں

پاکستان میں دہشت گردی، امریکا، بھارت اور اسرائیل ملوث ہوسکتے ہیں

  ہاں
  نہیں
  پتہ نہیں

Sponsors Links

Pakistan peoples party

Pakistan Muslim League (Q)

Pakistan Muslim League (N)

Home | Archive | Search | Contact Us |  Links