پنبہ کجا کجا نہم...رسائی دل تک…عقیل دانش
جیو کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں سالانہ تقریباً 500 ارب رورپیہ قومی خزانے سے چوری کیا جا رہا ہے۔ اس کا اعتراف سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے بھی کیا تھا اس وقت ملک بہت سے مسائل سے دوچار ہے دہشت گردی سے جنگ، توانائی کا بحران، لاقانونیت بدنظمی، عدم استحکام، غیر یقینی اور عدم اعتماد۔ ان سب پر مستزاد قومی خزانے سے اتنی بڑی رقم کی چوری، اگرکسی طرح اس چوری پر قابو پا لیا جائے تو ہمیں کشکول اٹھانے کی نوبت ہی نہ آتے۔ یہ چوری ملک کے اہم اداروں خصوصاً انکم ٹیکس اور سیل ٹیکس کے محکموں کے ذریعے کی جا رہی ہے اور اس چوری میں متعدد بینک بھی شامل ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق 300 ارب روپے کے 47 ہزار چیکس ٹیکس دہندگان کو ناجائز طور پر جاری کئے گئے ہیں۔ اس رقم کو ٹیکس ریٹرن کا نام دیا گیا ہے اکثر حالات میں ٹیکس دہندگان نے زائد کیا بالکل ہی ٹیکس نہیں بھرا لیکن یہ رقم انہیں لوٹا دی گئی اور اس لوٹ مار میں انکم ٹیکس اور کسٹم کے محکموں کے لاتعداد افراد شریک ہیں جو بینکوں کے ساتھ مل کر برسوں سے اس دھوکہ دہی میں شامل ہیں۔ صورت احوال یہ ہے کہ نیچے سے لے کر اوپر تک ان محکموں کے کارکنان اور ہر سطح کے کارکنان اس چوری میں شامل ہیں۔ یہ چوری، بدیانتی بے ایمانی اور زیادتی کھلے تو کس طرح۔
زندہ باد اے مرگ عیسیٰ آپ ہی بیمار ہیں
سالانہ آڈٹ کے دوران کتنی ہی بینکوں اور اداروں کی بددیانتی سامنے آتی ہے لیکن آڈٹ والوں کو کچھ دے دلا کر مک مکا کر لیا جاتا ہے ظریف جبلپوری مرحوم کی زبان میں۔
لے کے رشوت پھنس گیا ہے دے کر رشوت چھوٹ جا
پاکستان کی تاریخ کے ابتدا کے چند برسوں کے علاوہ یہ رشوت خوری اور بددیانتی عام ہے لیکن سب جاننے کے باوجود مختلف وجوہات اور مصلحتوں کی بنا پر اسے نظر انداز کیا جاتا رہا۔ اب سے دو عشرے پہلے تک یہ رشوت اور چوری آٹے میں نمک کے برابر ہوتی تھی اور اس ذیل میں زیادہ تر پولیس اور حکومتی دفاتر کے نچلے درجے کے کلرکس کے نام آتے تھے لیکن اب یہ چوری اور بددیانتی ”نمک میں آٹے کی“ برابر ہے اور قومی خزانے کو اس سے جو نقصان پہنچ رہا ہے اس نے ملک کو دیوالیہ ہونے کی کگار پر پہنچا دیا ہے۔
پاکستان کے یہ ”دوست“ نہ صرف مذکورہ محکموں میں موجود ہیں بلکہ حکومت کے ہر محکمے میں ہر وزارت میں اور ہر سفارت میں موجود ہیں۔ ہم آپ کو لندن کی ایک مثال دیتے ہیں۔ چند سال پہلے حکومت پاکستان نے افسروں کا ایک دفد لندن روانہ کیا اس وفد کی آمد کا مقصد یہ تھا کہ لندن میں پاکستانی سفارت کے لئے یا تو بہت ”موقع“ کی جگہ دیکھ کر یہ سفارش کی جائے کہ یہاں سفارت خانے کی عمارت تعمیر ہو یا کوئی خاص اور مناسب عمارت دیکھ کر حکومت سے سفارش کی جائے کہ یہ عمارت خرید لی جائے افسروں کا یہ وفد یہاں چند دن عیش کرتا رہا۔ اعلیٰ ہوٹلوں میں رہائش، سفر کے لئے قیمتی گاڑیاں اس وفد کے یہاں قیام و طعام پر حکومت کے اڑھائی لاکھ پونڈ خرچ ہوئے۔ یہ وفد واپس گیا محکمے کو رپورٹ پیش کی اور معاملہ ختم ہوگیا آج تک یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اس رپورٹ کا کیا ہوا یہ تو صرف ایک مثال تھی ہمارے وزیروں اور مشیروں پر حکومت کا جو بے دریغ روپیہ صرف ہو رہا ہے۔ اہل خبر اس سے خوب واقف ہیں اس قوم میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو اکل حلال پرایمان رکھتے ہیں لیکن ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ یہ اہل دیانت اپنے اپنے محکموں میں ہمیشہ پریشان رہتے ہیں ان پر ہر جگہ یہ الزام عائد ہوتا ہے کہ ”نہ کھاتے ہیں نہ کھانے دیتے ہیں“ انہیں ان کے محکموں میں طرح طرح سے پریشان کیا جاتا ہے ان کی ترقیاں روک لی جاتی ہیں۔ اکثر اوقات بلاوجہ ان پر الزامات لگا کر ان سے جواب طلب کئے جاتے ہیں اور اکثر حالات میں انہیں اتنا پریشان کیا جاتا ہے کہ یہ خود ملازمت چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان کی دیانت داری اور ایمان داری کی تعریف اور توصیف تو ایک طرف انہیں سیدھا ”بے وقوف“ اور ”بانگڑو“ کا لقب دیا جاتا ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ
جو تھا ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
معاشرے میں ایک طرف افلاس، غربت، نکیت اور گرانی کا راج ہے تو دوسری طرف رشوت، لوٹ کھسوٹ اور افراتفری پھیلی ہوئی ہے۔ اس ”ناہمواری“ کی متعدد وجوہات ہیں۔ ذرائع کی غیر مساوی تقسیم اور ”خوف خدا“ سے محرومی۔ اگر محنت کرنے والوں کو ان کی محنت کا معقول اور مساوی معاوضہ ملے تو سب نہیں تو اکثر کارکن بددیانتی، رشوت اور ناجائز یافت سے کنارا کش ہو جائیں گے۔ خوف خدا کے جذبے نے ہمارے معاشرے سے منہ موڑ لیا ہے اگر کوئی کسی موقع پر کسی محکمے میں، کسی شعبے میں اس کا ذکر بھی کرتا ہے تو اس کا مذاق اڑایا جاتاہے۔ اسے ”ملا“ کہہ کر مطعون کیا جاتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی ”آخرت“ کی بات سننا پسند میں کرنا۔ ان حالات میں پورے معاشرے کی تطہیر صرف اور صرف دیانتدار عہدے دار اور قانون کے وقار کو حرز جاں بنانے والے ہی کر سکتے ہیں۔ دولت اور ذرائع کی منصفانہ تقسیم بھی تطہیر کی مہم کا ایک اہم زاویہ ہے۔ ہماری عدلیہ اکثر اوقات بذات خود نوٹس لے کر بے ضابطگیوں کا احتساب کرتی ہے لیکن اگر ایک مائع گیس کی خریداری کے معاملے پر عدلیہ کی نظر ہے بھی تو اس سے کیا نتیجہ نکلے گا۔ یہاں تو صورت حال یہ ہے کہ
تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم
صرف اور صرف خوف خدا ہی ہمیں اس قیامت سے نجات دلا سکتا ہے۔ خدا ہمارے حال پر اپنا رحم فرمائے