کرکٹ جوا ...سویرے سویرے …نذیرناجی

 

 
 

نیوز نمبر :  6699              Visited: 106                 

 

 

 [Prev]  [Next]       


کرکٹ جوا ...سویرے سویرے …نذیرناجی



کھیلوں میں دلچسپی رکھنے والا ہر پاکستانی ‘ انگلینڈ اور پاکستان کا میچ دیکھتے ہوئے اچھی طرح سمجھ رہا تھا کہ ہمارے کھلاڑی قومی پرچم کی قیمت وصول کر کے‘ بے شرمی سے شکست کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس وقت تو کسی کو شبہ نہ رہا جب ایک کھلاڑی نے کیچ تھام لینے کے بعد خود اسے چھوڑ کر گیند زمین پہ پھینک دی۔ میں جب میچ دیکھنے کے لئے اپنی کلب میں پہنچا تو 6بجے شام کا وقت تھا۔ دوستوں نے بتایا کہ چند منٹ پہلے ایک صاحب بتا گئے ہیں کہ آج پاکستان ہار جائے گا۔ اس نے ٹیم کے ایک کھلاڑی کا نام لے کر بتا دیا تھا کہ اس نے ٹیلیفون پر اپنے دوستوں کو اطلاع دی ہے کہ اگر انہیں شرط لگانی ہے‘ تو انگلینڈ پر لگائیں اور جب صرف 6 رنز پر دوسری‘ تیسری اور چوتھی وکٹیں حریف کے حوالے کر دی گئیں‘ تو اندازہ ہو گیا کہ ہمارے ہیرو اپنی شکست میں شک و شبے کی گنجائش چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں۔ شاید ان کا خیال تھا کہ وکٹ بہت بری ہے۔ اگر تھوڑے سے رنز بھی زیادہ ہو گئے‘ تو انگلینڈ کو جیتنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ان کا اندازہ غلط نکلا۔ اکیلا پیٹرسن ہی 73 رنز بنا گیا۔ انتخاب عالم نے آسٹریلیا کے دورے پر بننے والی تحقیقاتی کمیٹی کو بتایا کہ ان کے خیال میں ”پاکستانی کرکٹ کے ذمہ داران ذہنی معذور ہیں اور ہمارے کھلاڑی یہ جانتے ہی نہیں کہ وہ اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔“
کرکٹ مہذب اور شائستہ لوگوں کا کھیل تھا۔ اس میں دلچسپی رکھنے والوں کے ذہن میں آمدنی کے بجائے پرفارمنس اور عزت ہوا کرتی تھی۔ مجھے سینئر کھلاڑیوں سے ملاقاتوں کا شرف حاصل ہے۔ عبدالحفیظ کاردار ایک اعلیٰ افسر تھے اور بڑے رکھ رکھاؤ والے شائستہ انسان ۔ میچ کھیلنے پر انہیں بہت معمولی فیس ملتی جسے انہوں نے کبھی اہمیت نہیں دی۔بیرونی دوروں میں وہ درمیانے درجے کے ہوٹلوں میں قیام کرتے لیکن جہاں پاکستان کی نمائندگی کرنا ہوتی‘ وہاں وہ ذاتی نمائش کے بجائے ایک مشن کی طرح کھیلتے اور اسی طرح باقی کھلاڑیوں کو بھی کھلاتے۔ خان محمد اور علیم الدین سے بھی لندن میں ملاقاتیں ہوئیں۔ دونوں جب اپنے کھیل کے زمانے کا ذکر چھیڑتے‘ تو یوں لگتا جیسے وہ اپنی نہیں‘ پاکستان کی عزت افزائی کو یاد کر رہے ہیں۔ ان کی ہر بات میں یہ فخر شامل ہوتا کہ ان کے ملک کو کس میچ اور کس کھلاڑی کی کارکردگی کے نتیجے میں عزت ملی؟ امتیاز‘ فضل محمود اور وقار سے بھی رسمی ملاقاتیں ہوئیں۔ فضل محمود تو باقاعدہ اپنے کھیل کو جذباتی اور مذہبی انداز سے یاد اور بیان کرتے تھے۔ ان میں سے کسی کو بھی کھیل سے ہونے والی آمدنی کا ذکر کرتے نہیں سنا۔ جب آسٹریلیا میں چینل 9 والوں نے مختلف ملکوں کے کھلاڑی خرید کر ون ڈے سرکس شروع کیا‘ تو کرکٹ کو انفرادی آمدنی اور جوئے کا مرض لاحق ہونے لگا۔ جن ملکوں کی کرکٹ انتظامیہ نے اپنے کھلاڑیوں کو ون ڈے سرکس میں جانے سے منع کیا‘ وہ اپنی قومی ذمہ داریاں پیسے کی خاطر نظرانداز کر کے کھیلنے چلے گئے اور اپنے ملکوں کی ٹیموں کو درہم برہم کر دیا۔ پاکستان سے کل پانچ کھلاڑی گئے تھے۔ ان میں دو ایسے تھے جنہوں نے پوری ٹیم کو میچ فکسنگ اور جوئے کی لت لگائی اور پھر وہی بچ سکا‘ جسے خدا نے ایمان کی دولت سے نوازا تھا۔ ورنہ دولت کا لالچ بیشتر کو اپنی رو میں بہا کر لے گیا۔ ہم شعیب ملک کو نیک نام کھلاڑیوں میں سمجھا کرتے تھے۔ مگر اس کی شادی کے موقع پر جو کچھ سامنے آیا‘ حیران کن تھا۔ جو شان و شوکت اور دولت کی نمائش شادی کی رسومات میں دکھائی گئیں‘ وہ کرکٹ کی آمدنی سے ممکن نہیں تھا۔ وہ ایک غریب خاندان کا چشم و چراغ ہے۔ رشتہ داروں میں بھی کوئی ایسا کروڑ پتی نہیں‘ جو اپنی دولت شعیب ملک پر لٹاتا۔ حال میں ایک انگریزی ہفت روزہ میں ان کے ایک رشتہ دار کے حوالے سے بتایا گیا کہ وہ ایک نچلے متوسط گھرانے میں پیدا ہوا اور اس کے والد کو شعیب کی پیدائش کے وقت ضروریات کے لئے قرض لینا پڑا تھا۔ لیکن جب اسے بطور کرکٹر پاکستانی ٹیم میں شامل ہونے کا موقع ملا‘ تو بقول اس کے ”مقدر نے آسمان کو چھو لیا۔“ 15سال کی عمر میں کرکٹ شروع کر کے وہ تیزرفتاری سے دولت مندی اور کامیابی کی طرف بڑھنے لگا۔ کپتان بننے تک وہ صرف آسودگی کی منزل تک پہنچا تھا۔ خوشحالی کا دور کپتانی کے بعد شروع ہوا۔ جس محفل میں یہ بات ہو رہی تھی‘ وہاں جب کسی نے میچ فکسنگ کا طعنہ دیا‘ تو شعیب کے رشتہ دار نے جواب میں کہا "
So What
?" اور پھر اس نے ایک ایک کا نام لے کر بتایا کہ کس کس کرکٹر نے جوئے میں بھاری دولت کمائی ہے؟ جب کسی نے ثانیہ مرزا سے شادی کی وجہ دلہن کی دولت کو بتایا‘ تو شعیب کے رشتہ دار نے فخر سے کہا کہ ہمارا کھلاڑی بھی دولت مندی میں اس سے کم نہیں۔ وہ بھی کروڑوں کا مالک ہے۔ 65لاکھ روپیہ تو اس نے بھارتی روپوں میں حق مہر رکھا ہے‘ جو پاکستانی روپے میں ایک کروڑ 30 لاکھ ہو جاتا ہے اور اسے دوبئی کے سب سے پرتعیش علاقے میں ایک ولا تحفے میں دیا ہے۔ پاکستان میں اس نے دو جگہ ولیمہ کیا اور اس طرح دولت لٹائی کہ خاندانی رئیس بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔ جب میاں بیوی نے لاہور میں قیام کا سوچا تھا‘ تو شعیب ملک نے اپنے ایک دوست کو پیغام بھیجا کہ ”10 کروڑ تک کا کوئی بنگلہ ڈھونڈ کے بتاؤ۔“ بعد میں شاید خیال بدل گیا۔دولت اور حب الوطنی سے موازنہ کیا جائے‘ تو ایک نوجوان کا ذہن کیا فیصلہ کر سکتا ہے؟ ہمارے بیشتر کھلاڑیوں نے وہی فیصلے کئے‘ جو شعیب ملک نے کئے تھے۔ اتنی دولت کیلئے کچھ تو دینا ہی پڑتا ہے اور ہمارے کھلاڑی اکثر اپنی فتح کی صلاحیتیں حریف کے سامنے سرنڈر کر کے وصولیاں کر لیتے ہیں۔
میچ فکسنگ میں پہلے بھارت‘ جنوبی افریقہ اور پاکستان کے نام آیا کرتے تھے۔ بھارت اور جنوبی افریقہ میں ایسی تادیبی کارروائیاں کی گئیں کہ اب وہاں کے کھلاڑی میچ فکسنگ کرتے ہوئے کانپتے ہیں۔ پاکستان کی ٹیم جوئے بازوں کی فیورٹ بن گئی ہے۔ اس کے کھلاڑی بہت اچھے ہیں۔ جب انہیں میچ فکسنگ کرنے والوں کی طرف سے جیتنے کا ہدف ملتا ہے‘ تو یہ جیت کر رقم کما لیتے ہیں اور ہارنے کا ہدف دیا جاتا ہے‘ تو اس سے بھی زیادہ کماتے ہیں۔ کھیل پر ان کی توجہ ملک کے لئے نہیں‘ پیسے کے لئے ہوتی ہے۔ ہم خواہ مخواہ ان کی جیت پر تالیاں بجاتے اور شکست پر غمزدہ ہوتے ہیں۔ ہمارے کھلاڑی دونوں صورتوں میں کچھ نہیں گنواتے۔ ان کی فتح بھی پیسے کے لئے ہوتی ہے اور شکست بھی۔ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل نے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کارروائی محض پرانے گناہوں کی تفتیش تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ گنہگاروں کو بھارت اور جنوبی افریقہ کی طرح ایسی سزائیں دی جائیں کہ وہ دوبارہ کھیل کے میدان میں داخل نہ ہو سکیں۔ خواہ ان کا کیرئیر عروج پر ہی کیوں نہ ہو؟ جنوبی افریقہ نے اپنے بہترین کپتان اور کھلاڑی کو اس کے عروج کے زمانے میں فارغ کیا تھا۔ بھارت نے اظہرالدین اور جدیجہ کو اس وقت کھیل سے باہر کیا‘ جب دونوں اپنے عروج پر تھے۔موجودہ ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو جنوبی افریقہ سے واپسی پر بلاتاخیر فارغ کر دینا چاہیے۔ نئی ٹیم تیار کرنے کے لئے جتنا بھی عرصہ درکار ہو وہ حاصل کیا جائے‘ خواہ اس دوران ہمیں انٹرنیشنل میچوں سے باہر ہونا پڑے۔ آزمائشی میچوں میں کھیل کے ساتھ ساتھ ذہنی تربیت پر بھی زور دیا جائے اور کھلاڑیوں کو ڈسپلن کی ایسی زنجیر میں باندھا جائے کہ وہ میچوں کے دوران خواہ وہ ملک کے اندر ہوں یا باہر‘ کرکٹ انتظامیہ کے حفاظتی حصار میں رہیں۔ کسی کو ٹیلیفون رکھنے یا استعمال کرنے کی اجازت نہ ہو۔ اہل خاندان اور دوستوں سے بات کرنے کے لئے کرکٹ انتظامیہ کے کارندے اپنا ٹیلیفون دے کر اپنے سامنے ان کی بات کرائیں۔ جب تک انہیں دو چار سال تک زیرحراست رکھ کر نہیں کھلایا جائے گا‘ وہ جوئے سے نہیں بچ سکیں گے۔ اگر انہیں قومی پرچم کے نام پر عزت اور شہرت حاصل کرنا ہے‘ تو یہ پابندیاں قبول کرنا ہوں گی اور جسے یہ پسند نہیں وہ اپنے گھر خوش رہے۔ پاکستان کو وہی کھلاڑی چاہئیں‘ جو اس کے نام پر عزت حاصل کرنے کے عوض اس کی عزت میں اضافہ بھی کریں۔ مگر کرکٹ انتظامیہ کی طرف سے نگرانی پر مامور اہل کاروں پر کون نظر رکھے گا؟



Send to Others Printable View

 ) آپ کے راۓ :

 

 Name

 E-mail

 URL

 

آپ کا پتہ اور پوسٹل کوڈ محفوظ رہے گا

پچھلے مطالب

 • پنجاب میں دہشت گردوں کے اڈے ختم کئے جائیں، آئندہ ٹائمز اسکوائر جیسا واقعہ ہوا تو پاکستان کو سنگین نت

 • شمالی وزیرستان، میزائل حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہو گئی

 • طالبان نے توجہ پاکستان سے امریکا اور مغربی ممالک پر مرکوز کر لی، دعویٰ

 • امریکا نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کا مطالبہ کر دیا، رپورٹ

 • وزیراعظم گیلانی سردار عطاء اللہ مینگل کے گھر پہنچ گئے، تمام بلوچ رہنماؤں کے نام ای سی ایل سے خارج

اگلے مطالب

 • پنبہ کجا کجا نہم...رسائی دل تک…عقیل دانش

 • جنگ جاری رہے گی ....حرف بہ حرف…علی مسعود سید

 • نکما دہشت گرد ....سویرے سویرے…نذیرناجی

 • نئی امریکی دھمکی ملک کیلئے کھلا چیلنج ہے ، ضیاء عباس

 • بجلی کی پیداوار میں اضافے کے باوجود شہروں میں 4 اور دیہات میں 9 گھنٹے لوڈشیڈنگ

Sunday, September 05, 2010

Visit English Version

 

سرچ

خبريں
خبر نامہ

 آپکی نظرمیں

پاکستان میں دہشت گردی، امریکا، بھارت اور اسرائیل ملوث ہوسکتے ہیں

  ہاں
  نہیں
  پتہ نہیں

Sponsors Links

Pakistan peoples party

Pakistan Muslim League (Q)

Pakistan Muslim League (N)

Home | Archive | Search | Contact Us |  Links